کھانا اور بیوی اور بچوں کی صحت Food and Healthy Family Life

علمی شعور اور معاشرہFEATUREDEDUCATION, AWARENESS, AND SOCIAL DEVEMOPMENT

Dr. Muhammad R. Manwar, PhD. (Editor, Author, Health Scientist, and Urdu & Punjabi Poet)

4/13/20262 min read

کھانا اور بیوی بچوں کی صحت

Visit our English websites to learn, connect, and stay tuned to scientific knowledge, updates, and awareness:

impactfulknowledgeacademy.org

honeybee.impactfulknowledgeacademy.org

avicenna.impactfulknowledgeacademy.org

herbs.impactfulknowledgeacademy.org

کھانا اور بیوی بچوں کی صحت

ماضی میں جب کیڑے مار ادویات موجود نہیں تھیں تو بہت کم انسان اور جانور بھوک سے مرتے تھے آج بہت زیادہ کیڑے مار ادویات کے استعمال سے، کھانا کھا کر مرنے والوں کی تعداد بھوک سے مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن کیسے آئیے مل کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

1. سبزیوں اور پھلوں کو کیڑوں اور جانوروں سے بچانے کے لیے ناسمجھ انسان نے فائدہ مند کیڑے بشمول شہد کی مکھی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی۔ کیونکہ کیڑوں اور جانوروں کو نہیں پتا کہ وہ کیڑے مار ادویات والی سبزیوں اور پھلوں سے خوراک لے رہے ہیں۔ مرغی کو کیسے سمجھائیں کہ کیڑے مار ادویات والی سبزیوں اور خوراک سے بچنا ہے۔ یا کیڑے مار ادویات کو کیسے سمجھائیں کہ شہد کی مکھی اور مرغی پر اثر نہیں کرنا۔ کیسے بتائیں بکرا، بکری اور گائے کو، کہ آپ نے وہ چارا نہیں کھانا جس پر کیڑے مار ادویات کا اثر موجود ہو کیونکہ انسان (بشمول بچوں، حاملہ عورتوں، اور بڑھاپے کی عمر میں انسانوں) نے آپ کا دودھ پینا اور گوشت کھانا ہوتا ہے۔ جس خوراک نے انسان کو توانائی دینی تھی اس نے ایسی بیماریاں اور صحت سے منسلک پیچدگیاں پیدا کیں جن میں خوراک سے منسلک الرجی شامل ہے۔ اور بجائے صحت سے منسلک ان پیچدگیوں کو عقل مندی سے حل کرنے کے ڈاکٹرز نے اینٹی بائیوٹیکس کا بے جا استعمال کیا۔ اور بکرا، بکری اور گائے کے فضلے یا پیشاب کے ذریعے کیڑے مار ادویات کا اثر زمین میں شامل ہوتا رہا۔ ان موضوعات پر ریسرچ کی روشنی میں کافی کچھ لکھا اور پبلش کیا جا چکا ہے خاص کر ترقی یافتہ ممالک میں۔ اس لیے میں بطور ایک سائنسدان آگاہی دینے کی کوشش کر رہا ہوں۔

2. گائے سے یاد آیا کہ ہم نے اپنے کسانوں کو آگاہی نہیں دی کہ جو گروتھ ہارمونز اور ادویات وہ ٹیکوں کی صورت میں اپنے جانوروں (بشمول بکرا، بکری اور گائے) کو دے رہے ہیں یہ ٹیکے کسانوں کے اپنے بچوں اور بیوی کو بیماریاں اور صحت سے منسلک پیچدگیاں دے رہے ہیں۔ ایک کسان جو بکری اور گائے پالتا ہے سب کو یہ تو بتاتا پھرتا ہے کہ جو دودھ وہ بیچ رہا ہے وہ خالص ہے اور اس کے اپنے بیوی اور بچے بھی یہی دودھ پیتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتا کہ وہ ٹیکوں کی صورت میں کون کونسی ادویات اپنی بکری اور گائے اور بھینس کو دے چکا ہے اور اس کی بیوی اور بچے بیماریوں اور صحت سے منسلک پیچدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اصل میں کسان بیچارا خود بھی نہیں جانتا کہ کیسے وہ خود کو اور اپنے بیوی اور بچوں کو اپنے ہاتھوں سے بیمار کر رہا ہے۔ وہ بیچارا محلے کے ڈاکٹر صاحب کے پاس اپنے بیوی اور بچوں کو لے جاتا ہے اور ڈاکٹر ان کو اینٹی بائیوٹیکس دیتا ہے اورساتھ ڈاکٹر اس کو کہتا ہے کہ وہ روزانہ 5 لیٹر دودھ ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچا دے کیونکہ وہ کسان خالص گاڑا دودھ بیچتا ہے میں نے خود کسانوں کو اپنے جانوروں کو ٹیکے لگاتے دیکھا۔ اور محلے کے ڈاکٹر صاحب نے دن میں 100 سے لے کر 200 مریض روزانہ دیکھتے ہیں اور ایسی کمال کی تشخیص (Diagnosis) کرتے ہیں کہ بغیر کسی ٹیسٹ اور فیملی ہستری کے یہ جان جاتے ہیں کہ مریض کے جسم میں علامات کیوں پیدا ہوئیں۔ نتیجتاً ڈاکٹر صاحب کافی مصروف ہیں اس لیے مریضوں اور کسانوں کو آگاہی نہیں دے سکتے اگر آگاہی دیں گے تو کسان اور دوسرے مریض سوال کریں گے کہ آپ نے جو دوا کی پڑیا اپنے پاس سے دی اور جو اینٹی بائیوٹیکس لکھ کر دی ان میں کیا فرق ہے اور کیا یہ دوائیاں جسم میں کوئی نقصان دہ علامات یعنی (Side effects) تو پیدا نہیں کرتیں؟ اور اگر نقصان دہ علامات پیدا کرتیں ہیں تو کون کونسی؟

بیچارا کسان یہ تو جانتاہے کہ دودھ میں پانی ڈالنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے، جو دشمن (یعنی ملاوٹ) سامنے ہے اس سے تو کسان واقف ہے لیکن دوست کی شکل میں چھپے دشمن (یعنی گروتھ ہارمونز اور ادویات جو وہ اپنے جانوروں دیتا ہے) سے واقف نہیں۔ یہ آگاہی کس نے دینی ہے کسان بھائیوں کو؟ نتیجتاً ڈاکٹر صاحب کے اپنے بیوی اور بچے بھی وہ بظاہر خالص گاڑا مگر گروتھ ہارمونز اور ادویات سے بھرپور دودھ پی کر بیمار ہوتے ہیں۔

3. انسان کا مسلسل اپنے ماحول کو تبدیل کرنا انسانی زندگی میں کئی پیچدگیاں لے آیا لیکن ناسمجھ انسان آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ترقی یافتہ دور میں رہتا ہے۔ کم علمی اور لاعلمی دونوں ہی انسان کی سب سے بڑی دشمن ہیں جو دوست کی شکل میں انسان کے ساتھ ساری زندگی رہتیں ہیں۔ لاعلم انسان خود کو اور اپنے بیوی اور بچوں کو اپنے ہاتھوں سے بیمار کر رہا ہوتا ہے۔

سوائے ان انسانوں کے جو خود بھی سائنسی اور علمی شعور اور آگاہی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور سمجھنے کے بعد دوسرے بھائیوں کو ا چھی نیت سے سمجھاتے ہیں جانورں کو بھی کیڑے مار ادویات اور کیمیکل سے پاک صرف اور صرف قدرتی خوراک کھلاتے ہیں۔

اس بلاگ کو لکھنے کا مقصد عوام میں علمی شعور کو بیدار کرنا ہے۔ یہ بلاگ صرف اور صرف انسانی آگاہی اور سائنسی تعلیم کے لیے لکھا گیا ہے۔

For further details, please read our terms and disclaimer.

Date of Writing This Blog Content: 10/03/2023

مصنف کا قلمی نام: ڈاکٹر محمد آر منور

جملہ حقوق محفوظ ہیں

ڈاکٹر محمد آر منور نے صحت اور میڈیکل سائنسز کے موضوعات پر دنیا کے متعدد ممالک میں بین الاقوامی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کیا اور برطانیہ، یورپ، چین، ملائیشیا اور سعودی عرب میں موجود تربیت یافتہ بین الاقوامی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر سائنسی تحقیقات کو شائع کیا ہے۔ ہیلتھ سائنسز کے لیے اپنے شوق اور ذاتی محرک کی وجہ سے، انھوں نے صحت کے معتبر بین الاقوامی سائنسی جرائد (Scientific Journals) میں اپنے تحقیقی آئیڈیاز کو شائع کیا ہے۔ مصنف کی تحقیقی توجہ، سیکھنے، اور صحت کے علوم میں تیزی سے ارتقا پذیر موضوعات پر محیط ہیں، جن میں کینسر گلائکوبیولوجی اور جینومکس، وراثت میں ملنے والی بیماریاں، فارماکوجنیٹکس، فوڈ کیمسٹری، میڈیکل کیمسٹری، اور صحت عامہ میں جینیات تبدیلیاں شامل ہیں۔ سائنس اور معاشرے میں اپنی شرکت کو بڑھانے کے لیے، مصنف نے اعلیٰ معیار کے سائنسی جرائد میں اپنے تحقیقی نظریات اور تجربات کو شائع کیا ہے، اور انہیں بین الاقوامی سائنسی کانفرنسوں سمیت سائنسی تقریبات میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے دنیا کے متعدد ممالک میں مدعو کیا گیا۔

Dr. Muhammad R. Manwar (PhD) gained research experience and knowledge in rapidly emerging sciences, including hereditary disorders and cancers, genomics, bioinformatics, pharmacogenetics, bacteriology, food chemistry, and glycomics. In different capacities, he has served higher‑education institutions—including public universities—in Asia and the Middle East. He made editorial contributions to international health and life science journals as an Editor (e.g., Topic Editor). In collaboration with scientists from the UK, China, Pakistan, and Saudi Arabia, he published peer-reviewed articles on rapidly emerging facets of biomedical science in high-quality journals (e.g., Q1- and Q2-ranked). His publications have been cited in well-respected (Q1 and Q2 ranking) scientific journals. He has attended scientific conferences and meetings across Asia, the Gulf, and Europe. Moreover, he has been invited as a Keynote/invited speaker and session chair at international scientific events. In 2023, Dr. Muhammad delivered a keynote lecture at an international apitherapy conference, presenting medicinal applications to scientists and academicians (including editors) from Europe, Turkey, and other countries. In 2025, he spoke at an international food chemistry conference in Turkey and received invitations from international universities to lecture and explore collaborations. His profile is decorated with international awards, fellowships, and service on the scientific committee of an international conference. He has shared research insights with scientists from Asia, Europe, Turkey, and Africa. His research strengths span rapidly evolving sciences, including cancer glycobiology and genomics, food chemistry, hereditary disease genetics, bacteriology and immunology, apitherapy, pharmacogenetics, and public‑health genetics. Since 2012, he has been actively studying these fields to maximize potential health benefits for patients with hereditary disorders and cancer.

Please respect the copyright and do not modify or reproduce this blog/information/image/material in any form without prior written permission from the Impactful Knowledge Academy. For further details, please read our terms and disclaimer.

This blog is written for educational purposes only. However, this blog or any piece of information presented here in this blog is not intended as a substitute for any religious advice or recommendation of a religious or Islamic scholar. The author of this blog or publisher does not assume any responsibility/ liability/loss, in any form, incurred resulting from the use and/or application of any part of this blog. The author or publisher of this blog does not warrant the completeness or accuracy of information, although reasonable efforts were made to compile quality information from authentic and reliable sources. The author has provided references for the information obtained from the reported literature and has struggled to trace the copyright holders of material reproduced; however, the author (or publisher) apologizes to copyright holders if permission to reproduce copyrighted material in this version has not been obtained. Please write to the author if the copyright information has not been acknowledged in this blog; the author or publisher may rectify the acknowledgement in any future (or expanded) version.

Visit our English websites to learn, connect, and stay tuned to scientific knowledge, updates, and awareness:

impactfulknowledgeacademy.org

honeybee.impactfulknowledgeacademy.org

avicenna.impactfulknowledgeacademy.org

herbs.impactfulknowledgeacademy.org

Related Stories

About

Contact

Submit Suggestions

Impactful Knowledge Academy (all websites)©2025

Impactful Knowledge Academy (websites/ subdomains) shares knowledge about impactful emerging sciences and rapidly evolving concepts and empowers future generations, including Gen Z, by equipping them with scientific insights and ideas for a better tomorrow.

Reframe your inbox with Impactful Urdu Learning

Subscribe to our newsletter and never miss a story with science updates in Urdu.

We care about your data in our privacy policy.